دار القرآن

خمس

خمس اسلام میں ایک مذہبی فرض ہے جس کے تحت مسلمان کو اپنی اضافی دولت کا پانچواں حصہ سالانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔

فوائد:

  • دارالقرآن کے ذریعے خمس دینے سے آپ براہِ راست امامِ وقتؑ کے مشن اور دینِ حق کے فروغ میں حصہ دار بنتے ہیں۔
  • ہم آپ کی رقم کو آپ کے منتخب مرجعِ تقلید (مثلاً آیت اللہ العظمٰی سیستانی دام ظلہ) تک مکمل شفافیت کے ساتھ پہنچاتے ہیں اور رسید بھی فراہم کرتے ہیں۔
  • دارالقرآن کے پلیٹ فارم پر آپ آسانی سے آن لائن، بینک یا نقد صورت میں خمس ادا کر سکتے ہیں، اور مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

ہمیں کیوں منتخب کیا جائے؟

ادائیگی کی فوری رسید کی فراہمی
خمس ادا کرنے کے فوراً بعد ڈیجیٹل یا مطبوعہ رسید جاری کی جاتی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

آیت اللہ سیستانی دام ظلہ سے تصدیق شدہ رسید کا حصول
جب رقم مرجعِ تقلید (آیت اللہ سیستانی دام ظلہ) کے دفتر تک پہنچتی ہے، تو وہاں سے تصدیق شدہ رسید بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ہمارا خُمس وصولی کا طریقہ کار

ادائیگی کا طریقہ انتخاب
آپ آن لائن (بینک، ایزی پیسہ، جیز کیش وغیرہ) یا براہ راست ادائیگی کر سکتے ہیں۔

رسید کی فراہمی
ادائیگی کے فوراً بعد خُمس کی باقاعدہ رسید جاری کی جاتی ہے۔

رقم کی منتقلی مرجع کو
جمع شدہ خُمس کی رقم آیت اللہ العظمى سید علی الحسینی السیستانی دام ظلہ یا دیگر مراجع کی ہدایت کے مطابق منتقل کی جاتی ہے۔

مرجع سے تصدیق شدہ رسید
مرجع کے دفتر سے موصول ہونے والی تصدیق شدہ رسید بھی خُمس دہندہ کو فراہم کی جاتی ہے۔

خُمس کا حساب کیسے کیجئے؟

ہمارے جید علماء آپ کو خمس کا حساب کتاب فراہم کریں گے رابطہ کیجئے

ہمارا وعدہ:

  • گارنٹی شدہ ترسیل: ہم آپ کے خُمس کو آپ کے مرجع تک پہنچانے کی مکمل ضمانت دیتے ہیں۔
  • رسید کی یقین دہانی: آپ کی ادائیگی کے بعد، آپ کو 4 ہفتوں کے اندر آپ کے مرجع کے دفتر سے اصل خُمس رسید کا ای میل موصول ہوگا۔
  • رہنمائی فراہم کرنے والے: یاد رکھیں، ہمارا کردار صرف آپ کی خُمس کی ترسیل کو آسان بنانا ہے۔

ہمارے ساتھ رابطے میں رہیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

خُمس کس پر واجب ہوتا ہے؟ +

ہر وہ مسلمان مرد یا عورت جس کی سالانہ آمدنی میں سے اخراجات کے بعد کچھ بچ جائے، اُس پر خمس واجب ہوتا ہے۔

خُمس کی رقم کہاں دینی چاہیے؟ +

خمس صرف ایسے مجاز نمائندے یا ادارے کو دیا جائے جو مرجع تقلید کے وکیل ہوں اور رسید جاری کریں۔

خُمس اور زکوة میں کیا فرق ہے؟ +

زکوة مخصوص اموال (مثلاً سونا، چاندی، اناج) پر فرض ہے جبکہ خمس عام سالانہ بچت یا منافع پر واجب ہوتا ہے۔

خُمس سال میں کتنی بار دینا ہوتا ہے؟ +

سال میں ایک بار، سالانہ حساب (سالِ مالی) کے اختتام پر۔

کیا میں خود خُمس کا حساب لگا سکتا ہوں؟ +

جی ہاں، لیکن اگر حساب میں شک ہو تو مستند دینی ادارے یا عالم دین سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔

کیا بچوں کے مال پر بھی خُمس ہے؟ +

اگر بچہ بالغ نہیں تو اس کا مال شرعی طور پر خمس سے مستثنیٰ ہے، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک والدین پر احتیاطاً نکالنا بہتر ہے۔

خُمس کی دو اقسام کیا ہیں؟ +

خمس دو حصے ہوتے ہیں: سہم السادات (ساداتِ محتاج کیلئے) سہم الإمام (امام زمانہؑ کا حق، جو مرجع کی اجازت سے دیا جاتا ہے)

کیا قسطوں میں خُمس دیا جا سکتا ہے؟ +

بعض فقہاء قسطوں کی اجازت دیتے ہیں بشرطِ اجازت مرجع تقلید یا اُن کے وکیل کی طرف سے اجازت لی جائے۔

اگر کسی نے پہلے کبھی خمس نہیں دیا تو اب کیا کرے؟ +

گزشتہ سالوں کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔ پہلے سال کا حساب لگا کر باقی سالوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہتر ہے کہ کسی دینی رہنما سے مشورہ کیا جائے۔

خمس کی ادائیگی پر رسید کیوں ضروری ہے؟ +

یہ یقین دہانی کے لیے کہ رقم صحیح شرعی چینل سے مستحقین تک پہنچ گئی ہے، اور شریعت کے مطابق ادا ہوئی ہے۔