دار القرآن

حج و عمرہ

حج یا عمرے کے موقع پر  چند صورتوں میں کفارہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ آب تاب آپ کو شرعی طریقے سے کفارہ ادا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہماری خصوصیات:

حج کے کفارے کی تعیین پر دقیق رہنمائی

علماـء کی نگرانی میں شرعی طریقے کے مطابق کفارے کی ادائیگی

کفارے کی ادائیگی کی تصدیق

آسان آن لائن عمل

ہمیں کیوں منتخب کیا جائے؟

🔸 مناسکِ حج کی تکمیل:

ہم آپ کے مرجعِ تقلید (خصوصاً آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی السیستانی دام ظلہ) کے مناسکِ حج کے بارے میں  فتاویٰ کے مطابق کفارہ ادا کرتے ہیں، تاکہ ہر مرحلہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔

🔸 مکمل امانت داری:

کفارہ چاہے ایک مُد طعام ہو یا قربانی، ہم خود انجام دیتے ہیں، اور کھانا یا  گوشت براہِ راست شرعی فقراء و مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

🔸عمل کی مکمل شفافیت:

چاہے تصویر ہو، ویڈیو کلپ، یا باقاعدہ رسید — آپ کو ہر مرحلے پر یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ کی جانب سے فریضہ ادا ہو چکا ہے۔

ہمارا طریقہ کار

درخواست 

مؤمنین ہماری ویب سائٹ، واٹس ایپ یا فون کے ذریعے حج یا عمرہ کے کفارے کی ادائیگی کی درخواست دے سکتے  ہیں۔

مجتہد کے فتاویٰ کے مطابق کفارے  کی تصدیق

ہم درخواست گزار  کے مرجعِ تقلید (اکثر آیت اللہ سیستانی دام ظلہ) کے مطابق کفارے کی تعیین کی تصدیق کرتے ہیں۔

جانور کی خریداری

ہم صحت مند، شرعی اعتبار سے درست عمر اور صفات والی  بکری/دنبہ/ اونٹ کا انتخاب کرتے ہیں جو کفارے کے لیے مناسب ہو۔

ذبح کا عمل

قربانی درخواست گزار کی وکالت میں شرعی اصولوں کے مطابق ادا کی جاتی ہے۔

 

گوشت کی تقسیم

ذبح شدہ جانور کا گوشت مکمل طور پر شرعی فقراء و مساکین مؤمنین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

ثبوت کی فراہمی

درخواست گزار  کو مکمل اطمینان دلانے کے لیے تصویری یا ویڈیو ثبوت، یا تصدیقی پیغام ارسال کیا جاتا ہے۔

کفارے کی مقدار معلوم نہیں؟

"کفارہ کی صحیح مقدار جاننے کے لیے ہمارے علماء سے مشورہ کیجئے!"

ہمارا وعدہ

شرعی پابندی

ہم ہر کفارے کو آپ کے مرجعِ تقلید کے فتاویٰ کے مطابق انجام دیتے ہیں۔

امانت داری

آپ کا کفارہ امانت داری کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ 

شرعی مستحقین تک پہنچانا

چاہے گوشت ہو یا طعام ، آب تاب اس کے صحیح شرعی مستحقین تک  پہنچانے کا وعدہ کرتا  ہے۔ 

ثبوت اور  شفافیت

آپ کے مکمل اطمینان کے لیے ہم ہر مرحلے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

ہمارے ساتھ رابطے میں رہیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

حج یا عمرے کے دوران کفارہ کب واجب ہوتا ہے؟ +

احرامِ حج باندھنے کے بعد مندرجہ ذیل صورتوں میں کفارہ واجب ہو جاتا ہے: خشکی کے جانور کا شکار، جماع کرنا، عورت کا بوسہ لینا، عورت کو مس کرنا، عورت کو دیکھنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا، استمناء، عقد نکاح، خوشبو لگانا، مردوں کے لئے سلا ہوا یا ایسا لباس پہننا جو سلے ہوئے کے حکم میں ہو، سرمہ لگانا، آئینہ دیکھنا، مردوں کے لئے بند جوتے یا موزے پہننا، فسوق (جھوٹ بولنا، مغلظات بکنا)، بحث و جھگڑا کرنا ایسا طرز عمل اختیار کرنا جو کسی مومن کے لئے اہانت کا باعث ہو، جسم کی جوئیں وغیرہ مارنا، آرائش کرنا (بننا سنورنا)، بدن پر تیل ملنا، بدن کے بال صاف کرنا، مردوں کیلئے سر ڈھانپنا اسی طرح پانی میں سر ڈبونا اور یہ عورتوں پر بھی حرام ہے، عورتوں کا اپنے چہرے کو چھپانا، مردوں کا سائے میں رہنا، جسم سے خون نکالنا، ناخن کاٹنا، ایک قول کے مطابق دانت نکالنا، ہتھیار لے کر چلنا۔ (مناسکِ حج)

حج کے کفارے میں کیا دیا جاتا ہے؟ +

کفارے کی مختلف صورتیں ہیں—کبھی مسکین کو کھانا کھلانا، کبھی بکری، کبھی گائے، کبھی دنبہ، کبھی اونٹ، کبھی ایک درہم، اور کبھی مٹھی بھر طعام دینا واجب ہوتا ہے۔ ( مناسکِ حج : ۱۹۹ سے ۲۸۴)

کیا کفارہ خود دینا ضروری ہے یا ادارے کے ذریعے دیا جا سکتا ہے؟ +

کفارہ خود بھی دیا جا سکتا ہے اور آب تاب جیسے ادارے کے ذریعے بھی دیا جا سکتا ہے۔

کیا آب تاب کفارے کی رسید یا ثبوت فراہم کرتا ہے؟ +

جی ہاں، آب تاب تصویری، ویڈیو یا رسیدی ثبوت فراہم کرتا ہے تاکہ آپ کو مکمل اطمینان ہو کہ فریضہ ادا ہو چکا ہے۔

کفارہ کہاں دیا جاتا ہے؟ +

قربانی شرعی ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہے اور گوشت شرعی مستحق مومنین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

کیا عورتوں پر بھی کفارہ واجب ہوتا ہے؟ +

جی ہاں، اگر عورت حالتِ احرام میں کوئی ایسا عمل انجام دے جس سے کفارہ واجب ہوتا ہو تو اس پر بھی کفاره واجب ہے۔

کیا کفارے کی ادائیگی میں تاخیر ہو سکتی ہے؟ +

جی ہاں۔