زکوٰۃ
مسلمانوں کے لیے ایک فرض عبادت ہے جس کے ذریعے وہ اپنی دولت میں سے ایک مخصوص حصہ مستحق افراد کو دیتے ہیں۔ زکوۃ کے ذریعے انسان اپنے مال کو پاک کرتا ہے اور معاشرے کے ضرورت مندوں کا حق ادا کرتا ہے۔
ہماری خصوصیات:
آبتاب کی ٹیم مستند علما و شرعی نگرانوں کے ساتھ زکاة کو اسلامی اصولوں کے مطابق استعمال کرتی ہے۔:
آپ کی دی گئی زکاة دینی اور تعلیمی منصوبوں میں استعمال ہو کر آپ کیلئے قیامت تک کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے۔:
ہمیں کیوں منتخب کریں؟
- ہماری تمام خدمات معتبر شیعہ مراجع تقلید (جیسے آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی سیستانی) کے فتاویٰ کے مطابق فراہم کی جاتی ہیں۔:
- جید علماء کی زیرِ نگرانی یہ کام انجام دیا جاتاہے۔:
- ہر قدم پر شفافیت کو ترجیح دی جاتی ہے، اور آپ کو زکٰوۃ یا خمس کی باقاعده شرعی رسید فراہم کی جاتی ہے تاکہ آپ کو اطمینان ہو کہ آپ کی عبادت صحیح طریقے سے ادا ہوئی ہے۔:
ہمارا طریقہ کار
- 1رابطہ کریں — اپنی زکوٰۃ کی تفصیلات ہمارے ٹیم کے ساتھ شیئر کریں۔
- 2درست حساب — ہمارے علماء زکوٰۃ کی صحیح حساب کتاب یقینی بناتے ہیں۔
- 3محفوظ ادائیگی — آپ آن لائن ادائیگی کر سکتے ہیں یا ہمارے دفتر میں حاضر ہو کر—جو آپ کے لیے آسان ہو۔
- 4رسید وصول کیجئے — فوری طور پر سرکاری رسید حاصل کیجئے۔
آج ہی اپنی زکوٰۃ ادا کیجئے
ہزاروں افراد کے ساتھ مل کر اس مقدس فریضے کو آسانی اور اعتماد سے پورا کیجئے۔
عمومی سوالات
کیا زکٰوۃ کو خیرات یا صدقہ کے ساتھ ملا کر دے سکتے ہیں؟
زکٰوۃ ایک مخصوص فرض ہے، اس کو نفل صدقات کے ساتھ ملانا مناسب نہیں۔ زکٰوۃ الگ سے نیت اور تقسیم کی مستحق ہے۔
کیا زکٰوۃ رشتہ داروں کو دی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، اگر وہ شرعی طور پر مستحق ہوں اور آپ اُن پر نفقہ کے شرعی ذمہ دار نہ ہوں (مثلاً بھائی، بہن، چچا وغیرہ)، تو انہیں زکٰوۃ دی جا سکتی ہے۔
کیا زکٰوۃ کی رسید لینا ضروری ہے؟
اگر آپ کسی ادارے یا وکیلِ شرعی کو زکٰوۃ دے رہے ہیں تو رسید لینا بہتر ہے تاکہ اعتماد قائم رہے اور شفافیت رہے۔
اگر میں نے سالوں سے زکٰوۃ ادا نہیں کی تو کیا کروں؟
آپ کو پچھلے سالوں کا حساب لگانا ہوگا اور قضا زکٰوۃ ادا کرنا شرعاً لازم ہے۔ بہتر ہے کہ کسی عالم دین یا معتبر ادارے سے رہنمائی لی جائے