صفحہ لوڈ ہو رہا ہے…
صفحہ لوڈ ہو رہا ہے…
حج یا عمرے کے موقع پر چند صورتوں میں کفارہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ دار القرآن آپ کو شرعی طریقے سے کفارہ ادا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
حج کے کفارے کی تعیین پر دقیق رہنمائی:
علماـء کی نگرانی میں شرعی طریقے کے مطابق کفارے کی ادائیگی:
کفارے کی ادائیگی کی تصدیق:
اگر آپ کو اپنے کفارے کی رقم معلوم ہے تو ابھی ادا کیجئے!
احرامِ حج باندھنے کے بعد مندرجہ ذیل صورتوں میں کفارہ واجب ہو جاتا ہے: خشکی کے جانور کا شکار، جماع کرنا، عورت کا بوسہ لینا، عورت کو مس کرنا، عورت کو دیکھنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا، استمناء، عقد نکاح، خوشبو لگانا، مردوں کے لئے سلا ہوا یا ایسا لباس پہننا جو سلے ہوئے کے حکم میں ہو، سرمہ لگانا، آئینہ دیکھنا، مردوں کے لئے بند جوتے یا موزے پہننا، فسوق (جھوٹ بولنا، مغلظات بکنا)، بحث و جھگڑا کرنا ایسا طرز عمل اختیار کرنا جو کسی مومن کے لئے اہانت کا باعث ہو، جسم کی جوئیں وغیرہ مارنا، آرائش کرنا (بننا سنورنا)، بدن پر تیل ملنا، بدن کے بال صاف کرنا، مردوں کیلئے سر ڈھانپنا اسی طرح پانی میں سر ڈبونا اور یہ عورتوں پر بھی حرام ہے، عورتوں کا اپنے چہرے کو چھپانا، مردوں کا سائے میں رہنا، جسم سے خون نکالنا، ناخن کاٹنا، ایک قول کے مطابق دانت نکالنا، ہتھیار لے کر چلنا۔ (مناسکِ حج)
کفارے کی مختلف صورتیں ہیں—کبھی مسکین کو کھانا کھلانا، کبھی بکری، کبھی گائے، کبھی دنبہ، کبھی اونٹ، کبھی ایک درہم، اور کبھی مٹھی بھر طعام دینا واجب ہوتا ہے۔ ( مناسکِ حج : ۱۹۹ سے ۲۸۴)
کفارہ خود بھی دیا جا سکتا ہے اور آب تاب جیسے ادارے کے ذریعے بھی دیا جا سکتا ہے۔
جی ہاں، آب تاب تصویری، ویڈیو یا رسیدی ثبوت فراہم کرتا ہے تاکہ آپ کو مکمل اطمینان ہو کہ فریضہ ادا ہو چکا ہے۔
قربانی شرعی ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہے اور گوشت شرعی مستحق مومنین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
جی ہاں، اگر عورت حالتِ احرام میں کوئی ایسا عمل انجام دے جس سے کفارہ واجب ہوتا ہو تو اس پر بھی کفاره واجب ہے۔
جی ہاں۔